ترے آنچل کو دھانی لکھ رہا ہوں

اشراق عزیزی

ترے آنچل کو دھانی لکھ رہا ہوں

اشراق عزیزی

MORE BYاشراق عزیزی

    ترے آنچل کو دھانی لکھ رہا ہوں

    تجھے میں رات رانی لکھ رہا ہوں

    یہ درد دل یہ آنسو زخم سارے

    کسی کی مہربانی لکھ رہا ہوں

    ہے میرے ذہن میں جس کا تصور

    اسے پریوں کی رانی لکھ رہا ہوں

    کسی کو لن ترانی لگ رہی ہیں

    جو باتیں خوش بیانی لکھ رہا ہوں

    ترے لب میرے لب کے ماحصل ہیں

    ترے صدقے جوانی لکھ رہا ہوں

    ہوا کو بھی کبھی میں کاٹ دوں گا

    ابھی پانی پہ پانی لکھ رہا ہوں

    جلال الدین اکبر سے نہ کہنا

    محبت کی کہانی لکھ رہا ہوں

    جسے کہتی ہے دنیا نوکرانی

    اسے محلوں کی رانی لکھ رہا ہوں

    ادب سے بیٹھیے خاموش رہیے

    بزرگوں کی نشانی لکھ رہا ہوں

    جسے اشراقؔ جو کرنا ہے کر لے

    میں اس دنیا کو فانی لکھ رہا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY