ترے قریب بھی دل کچھ بجھا سا رہتا ہے

ممتاز میرزا

ترے قریب بھی دل کچھ بجھا سا رہتا ہے

ممتاز میرزا

MORE BYممتاز میرزا

    ترے قریب بھی دل کچھ بجھا سا رہتا ہے

    غم فراق کا کھٹکا لگا سا رہتا ہے

    نہ جانے کب نگہ باغباں بدل جائے

    ہر آن پھولوں کو دھڑکا لگا سا رہتا ہے

    ہزاروں چاند ستارے نکل کے ڈوب گئے

    نگر میں دل کے سدا جھٹپٹا سا رہتا ہے

    تمہارے دم سے ہیں تنہائیاں بھی بزم نشاط

    تمہاری یادوں کا اک جمگھٹا سا رہتا ہے

    وہ اک نگاہ کہ مفہوم جس کے لاکھوں ہیں

    اسی نگاہ کا اک آسرا سا رہتا ہے

    تمہارے عشق نے ممتازؔ کر دیا دل کو

    یہ سب سے مل کے بھی سب سے جدا سا رہتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے