تو پھر میں کیا اگر انفاس کے سب تار گم اس میں

ظفر گورکھپوری

تو پھر میں کیا اگر انفاس کے سب تار گم اس میں

ظفر گورکھپوری

MORE BYظفر گورکھپوری

    تو پھر میں کیا اگر انفاس کے سب تار گم اس میں

    مرے ہونے نہ ہونے کے سبھی آثار گم اس میں

    مری آنکھوں میں اک موسم ہمیشہ سبز رہتا ہے

    خدا جانے ہیں ایسے کون سے اشجار گم اس میں

    ہزاروں سال چل کر بھی ابھی خود تک نہیں پہنچی

    یہ دنیا کاش ہو جائے کبھی اک بار گم اس میں

    وہ جیسا ابر بھیجے جو ہوا سر پر چلائے وہ

    مرے دریا مرے صحرا مرے کہسار گم اس میں

    نہیں معلوم آخر کس نے کس کو تھام رکھا ہے

    وہ مجھ میں گم ہے اور میرے در و دیوار گم اس میں

    ظفرؔ اس کے تھے ہم تو کب تلک اس سے الگ رہتے

    ہوئے ہم ایک دن ہونا تھا آخر کار گم اس میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY