تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے

خواجہ میر درد

تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے

خواجہ میر درد

MORE BYخواجہ میر درد

    تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے

    جس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے

    زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے

    ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

    کیا ہمیں کام ان گلوں سے اے صبا

    ایک دم آئے ادھر اودھر چلے

    دوستو دیکھا تماشا یاں کا سب

    تم رہو خوش ہم تو اپنے گھر چلے

    آہ بس مت جی جلا تب جانیے

    جب کوئی افسوں ترا اس پر چلے

    ایک میں دل ریش ہوں ویسا ہی دوست

    زخم کتنوں کے سنا ہے بھر چلے

    شمع کے مانند ہم اس بزم میں

    چشم تر آئے تھے دامن تر چلے

    ڈھونڈھتے ہیں آپ سے اس کو پرے

    شیخ صاحب چھوڑ گھر ،باہر چلے

    ہم نہ جانے پائے باہر آپ سے

    وہ ہی آڑے آ گیا جیدھر چلے

    ہم جہاں میں آئے تھے تنہا ولے

    ساتھ اپنے اب اسے لے کر چلے

    جوں شرر اے ہستیٔ بے بود یاں

    بارے ہم بھی اپنی باری بھر چلے

    ساقیا یاں لگ رہا ہے چل چلاؤ

    جب تلک بس چل سکے ساغر چلے

    دردؔ کچھ معلوم ہے یہ لوگ سب

    کس طرف سے آئے تھے کیدھر چلے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ریشما

    ریشما

    RECITATIONS

    شمس الرحمن فاروقی

    شمس الرحمن فاروقی

    شمس الرحمن فاروقی

    تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے شمس الرحمن فاروقی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY