تجھ بن بہت ہی کٹتی ہے اوقات بے طرح

محمد رفیع سودا

تجھ بن بہت ہی کٹتی ہے اوقات بے طرح

محمد رفیع سودا

MORE BYمحمد رفیع سودا

    تجھ بن بہت ہی کٹتی ہے اوقات بے طرح

    جوں توں کے دن تو گزرے ہے پر رات بے طرح

    ہوتی ہے ایک طرح سے ہر کام کی جزا

    اعمال عشق کی ہے مکافات بے طرح

    بلبل کر اس چمن میں سمجھ کر ٹک آشیاں

    صیاد لگ رہا ہے تری گھات بے طرح

    پوچھا پیام بر سے جو میں یار کا جواب

    کہنے لگا خموش کہ ہے بات بے طرح

    ملنے نہ دے گا ہم سے تجھے ایک دم رقیب

    پیچھے لگا پھرے ہے وہ بد ذات بے طرح

    کوئی ہی مور ہے تو رہے اس میں شیخ جی

    داڑھی پڑی ہے شانے کے اب ہاتھ بے طرح

    سوداؔ نہ مل کر اپنی تو اب زندگی پہ رحم

    ہے اس جواں کی طرز ملاقات بے طرح

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY