تجھ سے بچھڑ کے درد ترا ہم سفر رہا

قیصر قلندر

تجھ سے بچھڑ کے درد ترا ہم سفر رہا

قیصر قلندر

MORE BYقیصر قلندر

    تجھ سے بچھڑ کے درد ترا ہم سفر رہا

    میں راہ آرزو میں اکیلا کبھی نہ تھا

    یہ اور بات رات جواں تھی جواں رہی

    ساقی اداسیوں کے مجھے جام دے گیا

    بازار وقت سے کہاں جنس وفا گئی

    تنہا ہے ماہ مصر کا جلتا ہوا دیا

    تاریک تھی یہ رات مگر یاد کی کرن

    آئی تو نور حسن کا دروازہ پھر کھلا

    حائل ہوئے دلوں پہ یہ انجانے فاصلے

    پہلے ہمارے درمیاں کوئی فاصلہ نہ تھا

    ہاتھوں میں رات آس کی شمعیں لئے ہوئے

    تاریکیوں میں تجھ کو پکارا ہے بارہا

    اے جنت خیال نگاہ فسوں شعار

    قیصرؔ کو اپنے گیسوؤں میں آج پھر چھپا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY