تجھے پا کے تجھ سے جدا ہو گئے ہم

سراج لکھنوی

تجھے پا کے تجھ سے جدا ہو گئے ہم

سراج لکھنوی

MORE BYسراج لکھنوی

    تجھے پا کے تجھ سے جدا ہو گئے ہم

    کہاں کھو دیا تو نے کیا ہو گئے ہم

    محبت میں اک سانحا ہو گئے ہم

    ابھی تھے ابھی جانے کیا ہو گئے ہم

    محبت تو خود حسن ہے حسن کیسا

    یہ کس وہم میں مبتلا ہو گئے ہم

    یہ کیا کر دیا انقلاب محبت

    ذرا آئینہ لا یہ کیا ہو گئے ہم

    حقیقت میں بندہ بھی بننا نہ آیا

    سمجھتے ہیں دل میں خدا ہو گئے ہم

    قیامت تھا تجھ سے نگاہوں کا ملنا

    زمانے سے نا آشنا ہو گئے ہم

    نہ راس آئیں آخر ہمیں ٹھنڈی سانسیں

    عجب ساز تھے بے صدا ہو گئے ہم

    تصور میں بل پڑ گئے ابروؤں پر

    یہ کس بے وفا سے خفا ہو گئے ہم

    گداز محبت ہمیں دل بنا دے

    بس ایک آنچ اور آبلہ ہو گئے ہم

    کبھی بزم ہستی کی رونق ہمیں تھے

    سراجؔ اب بجھا سا دیا ہو گئے ہم

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY