تم دریا سا اشک بہاؤ تو جانیں

فیض راحیل خان

تم دریا سا اشک بہاؤ تو جانیں

فیض راحیل خان

MORE BYفیض راحیل خان

    تم دریا سا اشک بہاؤ تو جانیں

    کیا گزری ہے بات بتاؤ تو جانیں

    دادا کی پہچان بتانا آساں ہے

    اپنے دم پر نام کماؤ تو جانیں

    بستی میں تم خوب سیاست کرتے ہو

    بستی کی آواز اٹھاؤ تو جانیں

    بچوں جیسا اشک بہا کر آئے ہو

    تم عاشق ہو درد چھپاؤ تو جانیں

    جسم سجا کر بیٹھ گئے ہو کیا سمجھوں

    پلکوں پر کچھ خواب سجاؤ تو جانیں

    تھوڑا پی کر تاج اٹھاتے پھرتے ہو

    مے خانوں میں رات بتاؤ تو جانیں

    کیوں کیا کیسے فیضؔ یہی تو کرتا ہے

    تم شاعر ہو شعر سناؤ تو جانیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY