تم سے اب کامیاب اور ہی ہے

تاباں عبد الحی

تم سے اب کامیاب اور ہی ہے

تاباں عبد الحی

MORE BY تاباں عبد الحی

    تم سے اب کامیاب اور ہی ہے

    آہ ہم پر عذاب اور ہی ہے

    اس کو آئینہ کب پہنچتا ہے

    حسن کی آب و تاب اور ہی ہے

    رند واعظ سے کیوں کہ سربر ہو

    اس کی چھو، کی کتاب اور ہی ہے

    ہجر بھی کم نہیں ہے دوزخ سے

    اس سفر کا عذاب اور ہی ہے

    اس کو لگتی ہے کب کوئی تلوار

    تیغ ابرو کی آب اور ہی ہے

    یوں تو ہے سرخ یار کا چہرا

    پر پئے جب شراب اور ہی ہے

    مجھ کو اس نیند سے نہیں آرام

    مجھ کو راحت کا خواب اور ہی ہے

    بحث علمی سے کب ہیں یہ قائل

    جاہلوں کا جواب اور ہی ہے

    یاد میں تیری زلف و کاکل کی

    دل کے تئیں پیچ و تاب اور ہی ہے

    اس ستم گر کا مجھ پہ ہر ساعت

    جور و ظلم و عذاب اور ہی ہے

    کس طرح سے گہر کہوں تاباںؔ

    اس کے دنداں میں آب اور ہی ہے

    مآخذ:

    Deewan-e-Taban Rekhta Website)
    • Deewan-e-Taban Rekhta Website)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY