تم سے دیکھے نہ گئے ہم سے دکھائے نہ گئے

جاوید کمال رامپوری

تم سے دیکھے نہ گئے ہم سے دکھائے نہ گئے

جاوید کمال رامپوری

MORE BYجاوید کمال رامپوری

    تم سے دیکھے نہ گئے ہم سے دکھائے نہ گئے

    ہائے وہ زخم جو اس دل سے چھپائے نہ گئے

    کر لیا یوں تو ہر اک رنج گوارا لیکن

    آج تک دل سے تری یاد کے سائے نہ گئے

    ہم نے چاہا بھی نہیں ہم نے بھلایا بھی نہیں

    دل نے چاہا بھی مگر دل سے بھلائے نہ گئے

    راہ پر راہ نکلتی گئی کوچہ سے ترے

    ورنہ اس راہ پہ ہم آپ سے آئے نہ گئے

    نقش پا بن کے جہاں مٹ بھی گیا نقش امید

    ہم اسی راہ پہ بیٹھے ہیں اٹھائے نہ گئے

    مأخذ :
    • کتاب : Awaz Na Do (Pg. 47)
    • Author : Javed Kamal
    • مطبع : Sky Lark Publishers, Aligarah (1993)
    • اشاعت : 1993

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY