تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے

جون ایلیا

تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے

جون ایلیا

MORE BY جون ایلیا

    تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے

    تیرے ساتھ تری یاد آئی کیا تو سچ مچ آئی ہے

    شاید وہ دن پہلا دن تھا پلکیں بوجھل ہونے کا

    مجھ کو دیکھتے ہی جب اس کی انگڑائی شرمائی ہے

    اس دن پہلی بار ہوا تھا مجھ کو رفاقت کا احساس

    جب اس کے ملبوس کی خوشبو گھر پہنچانے آئی ہے

    حسن سے عرض شوق نہ کرنا حسن کو زک پہنچانا ہے

    ہم نے عرض شوق نہ کر کے حسن کو زک پہنچائی ہے

    ہم کو اور تو کچھ نہیں سوجھا البتہ اس کے دل میں

    سوز رقابت پیدا کر کے اس کی نیند اڑائی ہے

    ہم دونوں مل کر بھی دلوں کی تنہائی میں بھٹکیں گے

    پاگل کچھ تو سوچ یہ تو نے کیسی شکل بنائی ہے

    عشق پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیل چڑھے

    کیاری میں پانی ٹھہرا ہے دیواروں پر کائی ہے

    حسن کے جانے کتنے چہرے حسن کے جانے کتنے نام

    عشق کا پیشہ حسن پرستی عشق بڑا ہرجائی ہے

    آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آ نکلا تھا

    جوں ہی دروازہ کھولا ہے اس کی خوشبو آئی ہے

    ایک تو اتنا حبس ہے پھر میں سانسیں روکے بیٹھا ہوں

    ویرانی نے جھاڑو دے کے گھر میں دھول اڑائی ہے

    مآخذ:

    • Book: shayad (Pg. 111)

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites