تو جو کہتا ہے بولتا کیا ہے

شیخ ظہور الدین حاتم

تو جو کہتا ہے بولتا کیا ہے

شیخ ظہور الدین حاتم

MORE BYشیخ ظہور الدین حاتم

    تو جو کہتا ہے بولتا کیا ہے

    امر ربی ہے روح مولا ہے

    جب تلک ہے جدا تو ہے قطرہ

    بحر میں مل گیا تو دریا ہے

    فی الحقیقت کوئی نہیں مرتا

    موت حکمت کا ایک پردا ہے

    اور شریعت کی پوچھتا ہے تو یار

    وحدہ لا شریک یکتا ہے

    ہے گا وہم و قیاس سے باہر

    وہ نہ تجھ سا ہے اور نہ مجھ سا ہے

    جہاں ہو جو کہو سمیع و بصیر

    سب کو دیکھے ہے سب کی سنتا ہے

    نظر آتا نہیں وہ اعمیٰ کو

    ورنہ اس کا ظہور سب جا ہے

    ور طریقت کا تو کرے ہے سوال

    سو تو کہتا ہوں گر سمجھتا ہے

    غیر حق کے نہ دیکھ غیر طرف

    دیدۂ دل جو تیرا بینا ہے

    بات سنتا ہے تو اسی کی سن

    گر طریقت سے تجھ کو بہرا ہے

    اس کے تو ذکر بن نہ کر کچھ ذکر

    گر دہاں میں زبان گویا ہے

    ہاتھ سے کام بھی اسی کا کر

    پاؤں سے چل جو راہ اس کا ہے

    کام اس میں بڑا ہے نفس کشی

    ہو سکے تو عجب تماشا ہے

    معرفت پوچھ کیا ہے عارف سے

    جس کو عرفان ہے سو تو گونگا ہے

    جس نے پایا اسے سو ہے خاموش

    جس نے پایا نہیں سو بکتا ہے

    آپ ہی آپ ہے جہاں دیکھو

    کل شی محیط پیدا ہے

    عشق کا مرتبہ ہے سب سے بلند

    سر سے پہلے قدم گزرتا ہے

    جو ہوا سر عشق سے آگاہ

    آگے مرنے سے آپ مرتا ہے

    جو فنا ہو ہوا بقا باللہ

    کب اسے زندگی کی پروا ہے

    اس کو ہر آن ہر قدم ہر دم

    از ثریٰ سیر تا ثریا ہے

    رمز توحید کو سمجھ کر بول

    گر تو صاحب شعور و دانا ہے

    وہ نہ سمجھے گا یہ سخن حاتمؔ

    جس کو جہل اور خیال سودا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Diwan-e-Zadah (Pg. 287)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY