تو مجھے کس کے بنانے کو مٹا بیٹھا ہے

مضطر خیرآبادی

تو مجھے کس کے بنانے کو مٹا بیٹھا ہے

مضطر خیرآبادی

MORE BY مضطر خیرآبادی

    تو مجھے کس کے بنانے کو مٹا بیٹھا ہے

    میں کوئی غم تو نہیں تھا جسے کھا بیٹھا ہے

    بات کچھ خاک نہیں تھی جو اڑائی تو نے

    تیر کچھ عیب نہیں تھا جو لگا بیٹھا ہے

    میل کچھ کھیل نہیں تھا جو بگاڑا تو نے

    ربط کچھ رسم نہیں تھا جو گھٹا بیٹھا ہے

    آنکھ کچھ بات نہیں تھی جو جھکائی تو نے

    رخ کوئی راز نہیں تھا جو چھپا بیٹھا ہے

    نام ارمان نہیں تھا جو نکالا تو نے

    عشق افواہ نہیں تھا جو اڑا بیٹھا ہے

    لاگ کچھ آگ نہیں تھی جو لگا دی تو نے

    دل کوئی گھر تو نہیں تھا جو جلا بیٹھا ہے

    رسم کاوش تو نہیں تھی جو مٹا دی تو نے

    ہاتھ پردہ تو نہیں تھا جو اٹھا بیٹھا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Khirman  (Part-11) (Pg. 42)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY