ٹوٹ جاتا ہے ستاروں کا بھرم رات گئے

منصور عثمانی

ٹوٹ جاتا ہے ستاروں کا بھرم رات گئے

منصور عثمانی

MORE BYمنصور عثمانی

    ٹوٹ جاتا ہے ستاروں کا بھرم رات گئے

    جگمگاتے ہیں ترے نقش قدم رات گئے

    کیا بتائیں جو گزرتی ہے ہمارے دل پر

    یاد آتے ہیں جب اپنوں کے ستم رات گئے

    غرق ہو جاتی ہے جب نیند میں ساری دنیا

    جاگ اٹھتے ہیں ادیبوں کے قلم رات گئے

    روز آتے ہیں صدا دے کے چلے جاتے ہیں

    دل کے دروازے پہ کچھ اہل کرم رات گئے

    روک لیتی ہے تری یاد سہارا بن کر

    ڈگمگاتے ہیں اگر میرے قدم رات گئے

    جن کی امید میں ہم دن کو جیا کرتے ہیں

    ٹوٹ جاتے ہیں وہی قول و قسم رات گئے

    جن کی قسمت میں نہیں دن کا اجالا منصورؔ

    ان چراغوں میں جلا کرتے ہیں ہم رات گئے

    مأخذ :
    • کتاب : Kashmakash (Pg. 122)
    • Author : Mansoor Usmani
    • مطبع : Najma House, Baradari, Moradabad (2007)
    • اشاعت : 2007

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY