اداسی بس اداسی ہی اداسی
کہاں سے آتی ہے اتنی اداسی
اداسی نے مجھے وکرم چنا ہے
مری گردن سے ہے لٹکی اداسی
اڑا دی بیٹھے بیٹھے ساری بوتل
میں غٹ سے پی گیا ساری اداسی
کھرے سکے ہی چلتے ہیں غزل میں
یہاں چلتی نہیں کھوٹی اداسی
ہنسے تو ہنستے ہنستے رو پڑے ہم
چھپا بھی نہ سکے تھوڑی اداسی
وراثت بانٹ تو دی سب کو لیکن
کسے سونپیں گے ہم اپنی اداسی
مکرر ہو مکرر کہہ رہی ہے
مری غزلوں پہ سر دھنتی اداسی
بھلا کیسے ہمیں خوش دیکھ پاتی
اداسی بھی میاں ٹھہری اداسی
کوئی طے کر چکا ہے سب کی قسمت
ملے گی کب کسے کتنی اداسی
بالآخر تنگ آ کر ہنس پڑے ہم
سنبھالے گا کوئی کتنی اداسی
مرے جیسے ہزاروں شادؔ روئے
وہ جب اوڑھے ہوئے نکلی اداسی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.