اداسی کا سمندر دیکھ لینا

کفیل آزر امروہوی

اداسی کا سمندر دیکھ لینا

کفیل آزر امروہوی

MORE BY کفیل آزر امروہوی

    اداسی کا سمندر دیکھ لینا

    مری آنکھوں میں آ کر دیکھ لینا

    ہمارے ہجر کی تمہید کیا تھی

    مری یادوں کا دفتر دیکھ لینا

    تصور کے لبوں سے چوم لوں گا

    تری یادوں کے پتھر دیکھ لینا

    نجومی نے یہ کی ہے پیش گوئی

    رلائے گا مقدر دیکھ لینا

    نہ رکھنا واسطہ تم مجھ سے لیکن

    مری ہجرت کا منظر دیکھ لینا

    تمنا ہے اگر ملنے کی مجھ سے

    مجھے میرے ہی اندر دیکھ لینا

    مکاں شیشے کا بنواتے ہو آزرؔ

    بہت آئیں گے پتھر دیکھ لینا

    مآخذ:

    • Book : Dhoop Ka Dareecha (Pg. 63)

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY