اڑاتے آئے ہیں آپ اپنے خواب زار کی خاک

رحمان حفیظ

اڑاتے آئے ہیں آپ اپنے خواب زار کی خاک

رحمان حفیظ

MORE BYرحمان حفیظ

    اڑاتے آئے ہیں آپ اپنے خواب زار کی خاک

    یہ اور خاک ہے اک دشت بے کنار کی خاک

    یہ میں نہیں ہوں تو پھر کس کی آمد آمد ہے

    خوشی سے ناچتی پھرتی ہے ریگزار کی خاک

    ہمیں بھی ایک ہی صحرا دیا گیا تھا مگر

    اڑا کے آئے ہیں وحشت میں بے شمار کی خاک

    ہمیں مقیم ہوئے مدتیں ہوئیں لیکن

    سروں سے اب بھی نکلتی ہے رہ گزار کی خاک

    یہ حال ہے کہ ابھی سے کھنک رہے ہیں ظروف

    ابھی گندھی نہیں جن میں سے بے شمار کی خاک

    سنا ہے ڈھونڈتے پھرتے ہیں کب سے کوزہ گراں

    ہماری آنکھ کا پانی ترے دیار کی خاک

    عجب نہیں کہ مجھے زندہ گاڑنے والے

    کل آ کے پھانک رہے ہوں مرے مزار کی خاک

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 25.05.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY