افق اگرچہ پگھلتا دکھائی پڑتا ہے

جاں نثاراختر

افق اگرچہ پگھلتا دکھائی پڑتا ہے

جاں نثاراختر

MORE BY جاں نثاراختر

    افق اگرچہ پگھلتا دکھائی پڑتا ہے

    مجھے تو دور سویرا دکھائی پڑتا ہے

    ہمارے شہر میں بے چہرہ لوگ بستے ہیں

    کبھی کبھی کوئی چہرہ دکھائی پڑتا ہے

    چلو کہ اپنی محبت سبھی کو بانٹ آئیں

    ہر ایک پیار کا بھوکا دکھائی پڑتا ہے

    جو اپنی ذات سے اک انجمن کہا جائے

    وہ شخص تک مجھے تنہا دکھائی پڑتا ہے

    نہ کوئی خواب نہ کوئی خلش نہ کوئی خمار

    یہ آدمی تو ادھورا دکھائی پڑتا ہے

    لچک رہی ہیں شعاعوں کی سیڑھیاں پیہم

    فلک سے کوئی اترتا دکھائی پڑتا ہے

    چمکتی ریت پہ یہ غسل آفتاب ترا

    بدن تمام سنہرا دکھائی پڑتا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    افق اگرچہ پگھلتا دکھائی پڑتا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY