عمر کو کرتی ہیں پامال برابر یادیں

وحید اختر

عمر کو کرتی ہیں پامال برابر یادیں

وحید اختر

MORE BYوحید اختر

    عمر کو کرتی ہیں پامال برابر یادیں

    مرنے دیتی ہیں نہ جینے یہ ستم گر یادیں

    ہیں کبھی خون تمنا کی شناور یادیں

    شاخ دل پر ہیں کبھی برگ گل تر یادیں

    ہمت کوہ‌‌ کنی پر بھی کبھی بھاری ہیں

    اور تلتی ہیں کبھی نوک مژہ پر یادیں

    تھک کے دنیا سے اگر کیجیئے خوابوں کی تلاش

    نیند اڑا دیتی ہیں افسانے سنا کر یادیں

    راہ بھولے ہوئے سیاح کو تنہا پا کر

    لوٹ لیتی ہیں مٹا دیتی ہیں چھپ کر یادیں

    عہد رفتہ کے پر اسرار گھنے جنگل میں

    پھونک کر سحر بنا دیتی ہیں پتھر یادیں

    کوئی خود رفتہ و گم گشتہ بھٹکتا ہے جہاں

    اجنبی بن کے وہاں ملتی ہیں اکثر یادیں

    جب بھی ماضی کے دیاروں سے گزر ہوتا ہے

    کاسۂ چشم لیے پھرتی ہیں در در یادیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY