عمر میں اس سے بڑی تھی لیکن پہلے ٹوٹ کے بکھری میں

کشور ناہید

عمر میں اس سے بڑی تھی لیکن پہلے ٹوٹ کے بکھری میں

کشور ناہید

MORE BYکشور ناہید

    عمر میں اس سے بڑی تھی لیکن پہلے ٹوٹ کے بکھری میں

    ساحل ساحل جذبے تھے اور دریا دریا پہنچی میں

    شہر میں اس کے نام کے جتنے شخص تھے سب ہی اچھے تھے

    صبح سفر تو دھند بہت تھی دھوپیں بن کر نکلی میں

    اس کی ہتھیلی کے دامن میں سارے موسم سمٹے تھے

    اس کے ہاتھ میں جاگی میں اور اس کے ہاتھ سے اجلی میں

    اک مٹھی تاریکی میں تھا اک مٹھی سے بڑھ کر پیار

    لمس کے جگنو پلو باندھے زینہ زینہ اتری میں

    اس کے آنگن میں کھلتا تھا شہر مراد کا دروازہ

    کنویں کے پاس سے خالی گاگر ہاتھ میں لے کر پلٹی میں

    میں نے جو سوچا تھا یوں تو اس نے بھی وہی سوچا تھا

    دن نکلا تو وہ بھی نہیں تھا اور موجود نہیں تھی میں

    لمحہ لمحہ جاں پگھلے گی قطرہ قطرہ شب ہوگی

    اپنے ہاتھ لرزتے دیکھے اپنے آپ ہی سنبھلی میں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    کشور ناہید

    کشور ناہید

    RECITATIONS

    کشور ناہید

    کشور ناہید

    کشور ناہید

    عمر میں اس سے بڑی تھی لیکن پہلے ٹوٹ کے بکھری میں کشور ناہید

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyat dusht-e-qais main laila (Pg. 680)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY