ان کے گیسو سنورتے جاتے ہیں

مہیش چندر نقش

ان کے گیسو سنورتے جاتے ہیں

مہیش چندر نقش

MORE BYمہیش چندر نقش

    ان کے گیسو سنورتے جاتے ہیں

    حادثے ہیں گزرتے جاتے ہیں

    وقت سنتا ہے جن کی آوازیں

    ہائے وہ لوگ مرتے جاتے ہیں

    ڈوبنے والے موج طوفاں سے

    جانے کیا بات کرتے جاتے ہیں

    یوں گزرتے ہیں ہجر کے لمحے

    جیسے وہ بات کرتے جاتے ہیں

    ہوش میں آ رہے ہیں دیوانے

    کس کے جلوے بکھرتے جاتے ہیں

    کیا خبر آج کس کی یادوں کے

    نقشؔ دل پر ابھرتے جاتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY