انس اپنے میں کہیں پایا نہ بیگانے میں تھا

آغا شاعر قزلباش

انس اپنے میں کہیں پایا نہ بیگانے میں تھا

آغا شاعر قزلباش

MORE BY آغا شاعر قزلباش

    انس اپنے میں کہیں پایا نہ بیگانے میں تھا

    کیا نشہ ہے سارا عالم ایک پیمانے میں تھا

    آہ اتنی کاوشیں یہ شور و شر یہ اضطراب

    ایک چٹکی خاک کی دو پر یہ پروانے میں تھا

    آپ ہی اس نے انا الحق کہہ دیا الزام کیا

    ہوش کس نے لے لیا تھا ہوش دیوانے میں تھا

    اللہ اللہ خاک میں ملتے ہی یہ پائے ثمر

    لو خدا کی شان پھل بھی پھول بھی دانے میں تھا

    شیخ کو جو پارسا کہتا ہے اس کو کیا کہوں

    میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا وہ مے خانے میں تھا

    شاعرؔ نازک طبیعت ہوں مرا دل کٹ گیا

    ساقیا لینا کہ شاید بال پیمانے میں تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites