اس چشم فسوں گر کے پیمانے کی باتیں ہوں

منظر سلیم

اس چشم فسوں گر کے پیمانے کی باتیں ہوں

منظر سلیم

MORE BYمنظر سلیم

    اس چشم فسوں گر کے پیمانے کی باتیں ہوں

    میخانے میں بیٹھے ہیں میخانے کی باتیں ہوں

    زلف‌ و لب و عارض کی جنت میں پہنچ جائیں

    اس حسن مجسم کے کاشانے کی باتیں ہوں

    لوٹی ہے صبا حل کر اس جان بہاراں سے

    ارمانوں کی کلیوں کے کھل جانے کی باتیں ہوں

    پھر دکھنے لگے شانے بار غم ہستی سے

    پھر شانے پہ زلفوں کے لہرانے کی باتیں ہوں

    پھر وقت کے سینے کی دھڑکن نہ سنائی دے

    پھر جام کے شیشے سے ٹکرانے کی باتیں ہوں

    اس دور‌‌‌ حقیقت میں افسانہ سہی الفت

    کچھ رات کٹے آؤ افسانے کی باتیں ہوں

    الفاظ سے کھینچیں ہم تصویر‌ لب شیریں

    زہر غم دنیا کو پی جانے کی باتیں ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY