اس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے

احمد فراز

اس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے

احمد فراز

MORE BYاحمد فراز

    اس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے

    یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے

    جیسے کوئی در دل پر ہو ستادہ کب سے

    ایک سایہ نہ دروں ہے نہ بروں ہے یوں ہے

    تم نے دیکھی ہی نہیں دشت وفا کی تصویر

    نوک ہر خار پہ اک قطرۂ خوں ہے یوں ہے

    تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے

    عشق کا نام خرد ہے نہ جنوں ہے یوں ہے

    اب تم آئے ہو مری جان تماشا کرنے

    اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے یوں ہے

    ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے

    روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے

    شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فرازؔ

    یہ بھی اک سلسلۂ کن فیکوں ہے یوں ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    احمد فراز

    احمد فراز

    نامعلوم

    نامعلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے