اس کی آنکھوں پہ مان تھا ہی نہیں

ممتاز گورمانی

اس کی آنکھوں پہ مان تھا ہی نہیں

ممتاز گورمانی

MORE BY ممتاز گورمانی

    اس کی آنکھوں پہ مان تھا ہی نہیں

    خواب تھے خواب دان تھا ہی نہیں

    میں تعاقب میں چل پڑا جس کے

    دھول تھی کاروان تھا ہی نہیں

    دو زمیں زاد جس میں رہ سکتے

    اس قدر آسمان تھا ہی نہیں

    گر پڑا ہوں تو راستے نے کہا

    تیرا مجھ پر تو دھیان تھا ہی نہیں

    ایک خواہش تھی دو دلوں کے بیچ

    اور کچھ درمیان تھا ہی نہیں

    ہم نے پھولوں سے خوب باتیں کیں

    باغ میں باغبان تھا ہی نہیں

    اس نے چاہا کہ جانا جاؤں میں

    اس سے پہلے جہان تھا ہی نہیں

    عمر اس میں گزار دی ممتازؔ

    وہ جو میرا مکان تھا ہی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY