اس کو بھی کسی روز مرا دھیان رہے گا
اس کو بھی کسی روز مرا دھیان رہے گا
زندہ جو رہوں گا تو یہ امکان رہے گا
جس لفظ سے پھوٹے گی ترے درد کی خوشبو
وہ لفظ مرے شعر کی پہچان رہے گا
اچھا ہی ہوا خود کو بھی اب بھول گئے ہیں
ہم پر تری یادوں کا یہ احسان رہے گا
کچھ روز ابھی جشن ہوا ہوگا یہاں بھی
کچھ روز ابھی گرد کا طوفان رہے گا
ہم کتنا ہی بہلائیں نہیں بہلے گا یہ دل
ہم کتنا ہی سمجھائیں پریشان رہے گا
ہاں اہل جہاں خاک اڑاتے ہی رہیں گے
جب تک مری وحشت کا بیابان رہے گا
ہم دیکھ کے اس شخص کو انجان بنیں گے
وہ شخص ہمیں دیکھ کے حیران رہے گا
- کتاب : واہمہ وجود کا (Pg. 54)
- Author : سالم سلیم
- مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2022)
- اشاعت : 2nd
- کتاب : سبھی رنگ تمہارے نکلے (Pg. 56)
- Author : سالم سلیم
- مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2017)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.