aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اس کو دیکھا تھا فقط دو چار لمحوں کے لئے

سلیم بیتاب

اس کو دیکھا تھا فقط دو چار لمحوں کے لئے

سلیم بیتاب

MORE BYسلیم بیتاب

    اس کو دیکھا تھا فقط دو چار لمحوں کے لئے

    ہو گئے تنہا جہاں میں کتنی صدیوں کے لئے

    رات کا پچھلا پہر مجھ کو بشارت دے گیا

    آ رہی ہے روشنی تاریک گلیوں کے لئے

    کوئی سی رت ہو سدا پایا ہے ان کو سوگوار

    موسموں کا قہر ہے معصوم پتوں کے لئے

    اب کوئی چہرہ کوئی منظر ہمیں روکے گا کیا

    اٹھ چکے اپنے قدم پر پیچ رستوں کے لئے

    ایک گل ہے تجھ کو پیارا ایک گل مجھ کو عزیز

    کتنے پاگل ہو گئے ہم لوگ رنگوں کے لئے

    جن کا سایہ ماؤں کی آغوش سے کچھ کم نہ تھا

    قتل کے احکام ہیں اب ان درختوں کے لئے

    اب نئے پہلو سے دیکھا چاہیے باہر کا رنگ

    منتخب کیجے نئی جگہیں دریچوں کے لئے

    ذات کے تاریک غاروں میں دریچے کھولیے

    راستہ کوئی تو ہو سورج کی کرنوں کے لئے

    کیجیے بیتابؔ روشن اپنی پلکوں پر دیے

    روشنی درکار ہے بے نور کمروں کے لئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے