اس نے آتے ہی دیا بجھا دیا

حبیب کیفی

اس نے آتے ہی دیا بجھا دیا

حبیب کیفی

MORE BYحبیب کیفی

    اس نے آتے ہی دیا بجھا دیا

    حال پھر سارا مجھے سنا دیا

    مختصر سے اس کے اک تبسم پر

    جو کچھ بھی تھا پاس وہ لٹا دیا

    بے صبری سے پڑھ گیا ایک ایک لفظ

    اور پھر وہ خط وہیں جلا دیا

    سر اٹھایا جس نے بستی کے لیے

    اس کے آگے ہم نے سر جھکا دیا

    سارا دن دریا کنارے ریت پر

    نام لکھا میرا اور مٹا دیا

    مسکرا کر بات ہی تو کی اس نے

    لوگوں نے اس پر طوفان اٹھا دیا

    اس طرف اس نے کبھی دیکھا نہ تھا

    اور جب دیکھا تو بت بنا دیا

    ہم کھرے سکے لیے بیٹھے رہے

    اس نے نقلی نوٹ تک چلا دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY