اس نے مے پی کے سر بزم جو ساغر الٹا

منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

اس نے مے پی کے سر بزم جو ساغر الٹا

منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

MORE BYمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی

    اس نے مے پی کے سر بزم جو ساغر الٹا

    ورق انجمن دہر سراسر الٹا

    دیکھنے والے کو دنیا ہے سراپا تصویر

    گو ہے آئینے میں عکس رخ دلبر الٹا

    کر دیا آ کے چمن کو تہ و بالا کس نے

    کوئی سیدھا ہے یہاں کوئی گل تر الٹا

    ناز سے مجھ کو سر بزم جو ساقی نے دیا

    ہاتھ تھرائے کچھ اس طرح کہ ساغر الٹا

    اے خدا کیا یوں ہی آتی ہے کسی دوست کی یاد

    آ گیا منہ کو کلیجہ دل مضطر الٹا

    داد خواہان محبت کا یہ انبوہ کثیر

    دل مرا دیکھ کے ہنگامۂ محشر الٹا

    جس پہ کہ بیٹھ کے واعظ نے مذمت مے کی

    مجلس وعظ میں رندوں نے وہ منبر الٹا

    یا زمانے میں محبت کے فسانے ہیں غلط

    یا مرا نقش وفا ہے مرے دل پر الٹا

    تا کجا اے دل بیمار یہ راحت طلبی

    عمر بھر جب سے بچھا پھر نہ یہ بستر الٹا

    اٹھ گئی آج زمانے سے بساط الفت

    بستر مرگ مرا اس نے یہ کہہ کر الٹا

    اشک باریٔ شب ہجر کا کیا حال لکھوں

    دیدۂ تر نے نظرؔ ایک سمندر الٹا

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY