اس نے پوچھا بھی مگر حال چھپائے گئے ہم

فہیم شناس کاظمی

اس نے پوچھا بھی مگر حال چھپائے گئے ہم

فہیم شناس کاظمی

MORE BYفہیم شناس کاظمی

    اس نے پوچھا بھی مگر حال چھپائے گئے ہم

    اپنے ہی آپ میں اک حشر اٹھائے گئے ہم

    زندگی دیکھ کہ احسان ترے کتنے ہیں

    دل کے ہر داغ کو آئینہ بنائے گئے ہم

    پھر وہی شام وہی درد وہی اپنا جنوں

    جانے کیا یاد تھی وہ جس کو بھلائے گئے ہم

    کن دریچوں کے چراغوں سے ہمیں نسبت تھی

    کہ ابھی جل نہیں پائے کہ بجھائے گئے ہم

    عمر بھر حادثے ہی کرتے رہے استقبال

    وقت ایسا تھا کہ سینے سے لگائے گئے ہم

    راستے دوڑے چلے جاتے ہیں کن سمتوں کو

    دھوپ میں جلتے رہے سائے بچھائے گئے ہم

    دشت در دشت بکھرتے چلے جاتے ہیں شناسؔ

    جانے کس عالم وحشت میں اٹھائے گئے ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY