اسے بیتاب ہو کر سوچتی ہوں

سبیلہ انعام صدیقی

اسے بیتاب ہو کر سوچتی ہوں

سبیلہ انعام صدیقی

MORE BYسبیلہ انعام صدیقی

    اسے بیتاب ہو کر سوچتی ہوں

    میں اک گلفام اکثر سوچتی ہوں

    ہوئی حائل کچھ ایسی بد گمانی

    میں اک ہیرے کو پتھر سوچتی ہوں

    وہ اک لمحہ جو بیتا کل ہے میرا

    میں ہر لمحہ وہ منظر سوچتی ہوں

    ہوں جس کی ذات سے وابستہ کب سے

    اب اس کو اپنا محور سوچتی ہوں

    مری ڈولی جہاں سے سج کے نکلی

    میں بابل کا وہی گھر سوچتی ہوں

    یہ ہاؤ ہو بدن کے گھاؤ پر ہے

    مگر میں دل کے نشتر سوچتی ہوں

    تمہاری یاد کے بادل جو آئے

    تو بن کر باد‌ صر‌صر سوچتی ہوں

    سبیلہؔ کیا کہوں منزل کہاں ہے

    خدا واقف ہے جو در سوچتی ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY