واں نقاب اٹھی کہ صبح حشر کا منظر کھلا

یگانہ چنگیزی

واں نقاب اٹھی کہ صبح حشر کا منظر کھلا

یگانہ چنگیزی

MORE BYیگانہ چنگیزی

    واں نقاب اٹھی کہ صبح حشر کا منظر کھلا

    یا کسی کے حسن عالم تاب کا دفتر کھلا

    غیب سے پچھلے پہر آتی ہے کانوں میں صدا

    اٹھو اٹھو رحمت رب علا کا در کھلا

    آنکھ جھپکی تھی تصور بندھ چکا تھا یار کا

    چونکتے ہی حسرت دیدار کا دفتر کھلا

    کوئے جاناں کا سماں آنکھوں کے آگے پھر گیا

    صبح جنت کا جو اپنے سامنے منظر کھلا

    رنگ بدلا پھر ہوا کا مے کشوں کے دن پھرے

    پھر چلی باد صبا پھر مے کدے کا در کھلا

    آ رہی ہے صاف بوئے سنبل باغ جناں

    گیسوئے محبوب شاید میری میت پر کھلا

    چار دیوار عناصر پھاند کر پہنچے کہاں

    آج اپنا زور وحشت عرش اعظم پر کھلا

    چپ لگی مجھ کو گناہ عشق ثابت ہو گیا

    رنگ چہرے کا اڑا راز دل مضطر کھلا

    اشک خوں سے زرد چہرے پر ہے کیا طرفہ بہار

    دیکھیے رنگ جنوں کیسا مرے منہ پر کھلا

    خنجر قاتل سے جنت کی ہوا آنے لگی

    اور بہار زخم سے فردوس کا منظر کھلا

    نیم جاں چھوڑا تری تلوار نے اچھا کیا

    ایڑیاں بسمل نے رگڑیں صبر کا جوہر کھلا

    صحبت واعظ میں بھی انگڑائیاں آنے لگیں

    راز اپنی مے کشی کا کیا کہیں کیونکر کھلا

    ہاتھ الجھا ہے گریباں میں تو گھبراؤ نہ یاسؔ

    بیڑیاں کیونکر کٹیں زنداں کا در کیونکر کھلا

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل,

    فصیح اکمل

    واں نقاب اٹھی کہ صبح حشر کا منظر کھلا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے