واقف تھے کہاں ہم دل نا چار سے پہلے

سرور عالم راز

واقف تھے کہاں ہم دل نا چار سے پہلے

سرور عالم راز

MORE BYسرور عالم راز

    واقف تھے کہاں ہم دل نا چار سے پہلے

    کم بخت محبت کے اس آزار سے پہلے

    نظریں تو اٹھاتے ذرا دیوار سے پہلے

    اک آن تو مل بیٹھتے تکرار سے پہلے

    دیوانہ کوئی لائیں گے مجھ جیسا کہاں سے

    سوچا نہیں یہ آپ نے انکار سے پہلے

    پابستہ جگر سوختہ دلگیر زباں بند

    سو ظلم سہے دیدۂ خوں بار سے پہلے

    یہ کوئی نیا طرز تغافل تو نہیں ہے

    ایسی تو نہ تھی دوستی اغیار سے پہلے

    آسودۂ غم ہائے خزاں ہو گئے آخر

    پھولوں نے کہاں پوچھا ہمیں خار سے پہلے

    دل سوزی و آشفتہ سری تہمت و دشنام

    کیا کیا نہیں دیکھا رسن و دار سے پہلے

    سرورؔ نے سنائی ہی نہیں اہل خرد کو

    اپنی یہ غزل جرأت اظہار سے پہلے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY