وفا کے نام پہ رکھی ہیں تہمتیں کیا کیا

خالد یوسف

وفا کے نام پہ رکھی ہیں تہمتیں کیا کیا

خالد یوسف

MORE BYخالد یوسف

    وفا کے نام پہ رکھی ہیں تہمتیں کیا کیا

    بگاڑ دی ہیں زمانے نے صورتیں کیا کیا

    ہمیں پہ دوش ہے ان کی قضا نمازوں کا

    جناب شیخ نے ڈھونڈیں وضاحتیں کیا کیا

    بڑے خلوص سے اک شہر گل اجاڑ لیا

    ہوئی ہیں اہل نظر سے حماقتیں کیا کیا

    فریب سیم و جواہر ہوئے ہیں نام و نمود

    خیال یار سے الجھی ہیں ظلمتیں کیا کیا

    وہ مہرباں تو نہ تھا پر خلوص بھی نہ رہا

    پڑی ہیں غیر کی صحبت میں عادتیں کیا کیا

    زبان قاتل و مقتول پر ہے ایک ہی نام

    خدا کے نام پہ گزریں قیامتیں کیا کیا

    بڑھا کے حلقۂ رنداں کی رنجشیں خالدؔ

    ستم گروں نے نکالی ہیں حسرتیں کیا کیا

    مآخذ:

    • کتاب : Zakhm-e-Safer (Pg. 68)
    • Author : Khalid Yusuf
    • مطبع : Ahbab Publishers (1997)
    • اشاعت : 1997

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY