وفا سرشت ہوں دوری میں بھی محبت ہے

فاطمہ حسن

وفا سرشت ہوں دوری میں بھی محبت ہے

فاطمہ حسن

MORE BYفاطمہ حسن

    وفا سرشت ہوں دوری میں بھی محبت ہے

    اکیلے رہنے میں لیکن بڑی اذیت ہے

    یہ جاگتی ہے تو پھر دیر تک جگاتی ہے

    مرے وجود میں سوئی ہوئی جو وحشت ہے

    جہاں پہ عشق کی سرحد جنوں سے ملتی ہے

    وہاں پہ آ کے ملے وہ اگر محبت ہے

    بہت ہیں خواب مگر خواب ہی سے کیا ہوگا

    ہمارے بیچ جو حائل ہے وہ حقیقت ہے

    وہ دور آیا کہ وہ بھی گھروں کو چھوڑ گئے

    جو سوچتے تھے کہ اب مستقل سکونت ہے

    سمجھ رہی تھی میں اپنے قیام کو منزل

    خبر نہیں تھی کہ آگے بھی ایک ہجرت ہے

    بہت سے لوگ دلوں میں چھپائے بیٹھے ہیں

    یہ فاطمہؔ ہی نہیں ہے جسے شکایت ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY