وہی روایت گزیدہ دانش وہی حکایت کتاب والی

فضا ابن فیضی

وہی روایت گزیدہ دانش وہی حکایت کتاب والی

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    وہی روایت گزیدہ دانش وہی حکایت کتاب والی

    رہی ہیں بس زیر درس تیرے کتابیں پچھلے نصاب والی

    میں اپنے لفظوں کو اپنے فن کے لہو سے سرسبز کرنے والا

    مرا شعور اجتہاد والا مری نظر احتساب والی

    چلو ذرا دوستوں سے مل لیں کسے خبر اس کی پھر کب آئے

    یہ صبح گلگوں خیال والی یہ مشکبو شام خواب والی

    مثال مجھ گم شدہ نفس کی ہے ایسی ہی جیسے کوئی بچہ

    پرانے بستے میں رکھ کے پھر بھول جائے کاپی حساب والی

    مرے لیے تو ترا علاقہ ہے شہر ممنوعہ جیسا لیکن

    کھنڈر کھنڈر زندگی کو میں نے گلی دکھا دی گلاب والی

    مرے یہ افکار تیرے فکر و نظر کی تطہیر ہیں مری جاں

    میں حکمتیں تجھ کو دے رہا ہوں وہی خدا کی کتاب والی

    فضاؔ کہ درویش حرف ہے دیکھنا ذرا اس کا بانکپن تم

    قمیص خورشید بخت والی کلاہ گردوں رکاب والی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY