وقت آخر یاد ہے ساقی کی مہمانی مجھے

مضطر خیرآبادی

وقت آخر یاد ہے ساقی کی مہمانی مجھے

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    وقت آخر یاد ہے ساقی کی مہمانی مجھے

    مرتے مرتے دے دیا انگور کا پانی مجھے

    وہ مری صورت تو دیکھیں اپنی صورت کے لیے

    کاش آئینہ بنا دے میری حیرانی مجھے

    کٹ گیا ہے وصل سے پہلے زمانہ عمر کا

    ہائے دھوکا دے گیا بہتا ہوا پانی مجھے

    دامن صحرا سے لوں گا مر کے وحشت میں کفن

    اک نیا جوڑا پنہائے گی یہ عریانی مجھے

    میرے گل کو لا یا اپنے پھول لے جا عندلیب

    ایسے کانٹوں سے نہیں پھانسیں نکلوانی مجھے

    تم اگر چاہو تو مٹی سے ابھی پیدا ہوں پھول

    میں اگر مانگوں تو دریا بھی نہ دے پانی مجھے

    تشنہ کامی اس کو کہتے ہیں کہ بحر عشق میں

    میں اگر اتروں تو اوپر پھینک دے پانی مجھے

    ایسی مشکل تم نے ڈالی ہے کہ جب مر جاؤں گا

    مدتوں رویا کرے گی میری آسانی مجھے

    تو نے اتنی دی کہ مے خواری کی حسرت بہہ گئی

    میں نے اتنی پی کہ آخر ہو گئی پانی مجھے

    رونے جاتا ہوں میں اپنی حسرتوں کے ڈھیر پر

    بے کسی آ کر سکھا دے مرثیہ خوانی مجھے

    حشر میں چلنا پڑے گا ایک ٹیڑھا راستہ

    کوچۂ جاناں سکھا دے ٹھوکریں کھانی مجھے

    مضطرؔ اپنے حق کے کانٹے چن کے میں رخصت ہوا

    اور کیا دیتی بہار گلشن فانی مجھے

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman  (Part-11) (Pg. 39)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY