وقت کے ہاتھوں حکایات انا بھول گئے

سرور عالم زار

وقت کے ہاتھوں حکایات انا بھول گئے

سرور عالم زار

MORE BYسرور عالم زار

    وقت کے ہاتھوں حکایات انا بھول گئے

    ہم وفا بھول گئے آپ جفا بھول گئے

    کس کو سمجھائیں یہ سمجھانے کی باتیں کب ہیں

    وصل کب یاد رہا ہجر میں کیا بھول گئے

    کیا چمن چھوڑا پلٹ کر نہیں دیکھا اس کو

    رنگ گل بوئے سمن باد صبا بھول گئے

    بجھ گئی شمع جنوں لٹ گئی بزم یاراں

    اہل دل سوزش جاں ہوتی ہے کیا بھول گئے

    ایسا ویران ہوا کعبۂ ہستی یا رب

    رہ گئے ہاتھ اٹھے حرف دعا بھول گئے

    حسن سرشاریٔ انداز و ادا سے گزرا

    اور سب اہل وفا رسم وفا بھول گئے

    کم عیاری نے خدا سوز بنایا ایسا

    بت تو سب یاد رہے ایک خدا بھول گئے

    کون سوچے بھلا کیوں دل نہیں پابند نماز

    جب سر شام اذانوں کی صدا بھول گئے

    شہر جاناں میں نہیں پوچھنے والا کوئی

    کون ہو آئے ہو کیوں تم یہاں کیا بھول گئے

    خوب سرورؔ تمہیں امید کرم یاد رہی

    کیا ستم ہے کہ گناہوں کی سزا بھول گئے

    مأخذ :
    • کتاب : اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 96)
    • مطبع : کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY