وقت کی عمر کیا بڑی ہوگی

ساغر صدیقی

وقت کی عمر کیا بڑی ہوگی

ساغر صدیقی

MORE BY ساغر صدیقی

    وقت کی عمر کیا بڑی ہوگی

    اک ترے وصل کی گھڑی ہوگی

    دستکیں دے رہی ہے پلکوں پر

    کوئی برسات کی جھڑی ہوگی

    کیا خبر تھی کہ نوک خنجر بھی

    پھول کی ایک پنکھڑی ہوگی

    زلف بل کھا رہی ہے ماتھے پر

    چاندنی سے صبا لڑی ہوگی

    اے عدم کے مسافرو ہشیار

    راہ میں زندگی کھڑی ہوگی

    کیوں گرہ گیسوؤں میں ڈالی ہے

    جاں کسی پھول کی اڑی ہوگی

    التجا کا ملال کیا کیجے

    ان کے در پر کہیں پڑی ہوگی

    موت کہتے ہیں جس کو اے ساغرؔ

    زندگی کی کوئی کڑی ہوگی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY