اب روانی سے ہے نجات مجھے
اب روانی سے ہے نجات مجھے
منجمد کر گئی ہے رات مجھے
آب و گل احتجاج کر نہ سکے
لے گئی آگ اپنے ساتھ مجھے
خود سے جب بھی فرار ہوتا ہوں
روک لیتی ہیں شش جہات مجھے
دل نے بھی آخرش کیا مایوس
دل سے کچھ تھیں توقعات مجھے
منتشر اس لیے بھی رہتا ہوں
یاد رہتے ہیں واقعات مجھے
دیکھیے اب نیا دکھائے کیا
یہ فسوں ساز کائنات مجھے
میں عدم کی پناہ گاہ میں ہوں
چھو نہیں سکتی اب حیات مجھے
ناامیدی کے جھرمٹوں میں بھی رازؔ
ڈھونڈھ لیتے ہیں ممکنات مجھے
Ham Zameen Par Aasmaan Ke Phool Hain
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.