قافلے سے الگ چلے ہم لوگ
قافلے سے الگ چلے ہم لوگ
سرخیوں میں بنے رہے ہم لوگ
دیکھیے کب تلک رہیں گے ساتھ
ایک سے ہیں مزاج کے ہم لوگ
صبح قربان تیرے چہرے پر
رات کتنے اداس تھے ہم لوگ
جن کا سوجھا نہ کچھ جواب ہمیں
ان سوالوں پہ ہنس دئے ہم لوگ
کتنے طوفان جھیل جاتے ہیں
آب اور خاک سے بنے ہم لوگ
پھر کوئی فیصلہ نہ کر پائے
سیل امکاں میں بہہ گئے ہم لوگ
اب کے ہارے تو ٹوٹ جائیں گے
جیت جائیں خدا کرے ہم لوگ
Ham Zameen Par Aasmaan Ke Phool Hain
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.