ذروں کی باتوں میں آنے والا تھا
ذروں کی باتوں میں آنے والا تھا
میں صحرا سے ربط بڑھانے والا تھا
بارش امیدوں پر پانی پھیر گئی
میں لمحوں کو دھوپ لگانے والا تھا
پھر یاد آیا دور بہت ہی دور ہو تم
میں پاگل آواز لگانے والا تھا
اک ازلی ڈر نے مجھ کو محتاط کیا
میں جب سیب کو ہاتھ لگانے والا تھا
جانے کیسے رات اماوس کی اتری
میں کاغذ پر چاند بنانے والا تھا
ایک کرن نے مجھ کو واپس کھینچ لیا
میں بس جسم سے باہر آنے والا تھا
Ham Zameen Par Aasmaan Ke Phool Hain
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.