پہچانتے ہیں راستے مجھ خاکسار کو
پہچانتے ہیں راستے مجھ خاکسار کو
میں ساتھ لے کے چلتا ہوں اپنے غبار کو
اپنی پسند کے رکھے اس نے دھنک میں رنگ
ٹوکا نہیں کسی نے بھی پروردگار کو
پڑھنے لگا میں کتبے کو اور نیند کھل گئی
دیکھا تھا جانے خواب میں کس کے مزار کو
بکھرے ہوئے پڑے رہو اب اپنی ذات میں
کیوں ان سنا کیا تھا لہو کی پکار کو
اچھی کھپت ہے ان دنوں ہجر و وصال کی
سو میں نے بھی بڑھا دیا ہے کاروبار کو
کب تک چھپے رہو گے کتابوں کی اوٹ میں
تنہائی ڈھونڈھ لیتی ہے اپنے شکار کو
Ham Zameen Par Aasmaan Ke Phool Hain
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.