برگ ریزوں سے رفاقت ہے مری
برگ ریزوں سے رفاقت ہے مری
کتنی آسان وضاحت ہے مری
کیا وہی گھر جہاں لکھا ہے عشق
کیا اسی گھر میں سکونت ہے مری
حرف تھا اور سخن تک پہنچا
قابل رشک مسافت ہے مری
دشت زادوں کو نہیں بھاتی ہے
کچھ الگ طرح کی وحشت ہے مری
ایک تم ہی نہیں عاری مجھ سے
ان دنوں مجھ کو بھی قلت ہے مری
اب کے وہ رنج بہت دکھ دے گا
اب کے جس رنج میں شرکت ہے مری
Ham Zameen Par Aasmaan Ke Phool Hain
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.