وہ اپنے گھر کے دریچوں سے جھانکتا کم ہے

نواز دیوبندی

وہ اپنے گھر کے دریچوں سے جھانکتا کم ہے

نواز دیوبندی

MORE BYنواز دیوبندی

    وہ اپنے گھر کے دریچوں سے جھانکتا کم ہے

    تعلقات تو اب بھی ہیں رابطہ کم ہے

    تم اس خموش طبیعت پہ طنز مت کرنا

    وہ سوچتا ہے بہت اور بولتا کم ہے

    بلا سبب ہی میاں تم اداس رہتے ہو

    تمہارے گھر سے تو مسجد کا فاصلا کم ہے

    فضول تیز ہواؤں کو دوش دیتا ہے

    اسے چراغ جلانے کا حوصلہ کم ہے

    میں اپنے بچوں کی خاطر ہی جان دے دیتا

    مگر غریب کی جاں کا معاوضہ کم ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY