وہ بہکی نگاہیں کیا کہیے وہ مہکی جوانی کیا کہیے

فرحت کانپوری

وہ بہکی نگاہیں کیا کہیے وہ مہکی جوانی کیا کہیے

فرحت کانپوری

MORE BYفرحت کانپوری

    وہ بہکی نگاہیں کیا کہیے وہ مہکی جوانی کیا کہیے

    وہ کیف میں ڈوبے لمحوں کی اب رات سہانی کیا کہیے

    الجھی ہوئی زلفیں خواب اثر بدمست نگاہیں وجہ بقا

    دنیا سے مگر امکان شب اسرار و معانی کیا کہیے

    روداد محبت سن سن کر خود حسن کو بھی نیند آنے لگی

    اب اور کہاں سے لائیں دل اب اور کہانی کیا کہیے

    جینا بھی بہت ہی مشکل ہے مرنا بھی کوئی آسان نہیں

    اللہ رے کشاکش الفت کی کیا جی میں ہے ٹھانی کیا کہیے

    فرحتؔ کا پتا پوچھے جو کوئی کافی ہے فقط یہ کافی ہے

    پھوٹی ہوئی قسمت ٹوٹا دل اب اور نشانی کیا کہیے

    مأخذ :
    • کتاب : Mujalla Dastavez (Pg. 167)
    • Author : Aziz Nabeel
    • مطبع : Edarah Dastavez (2013-14)
    • اشاعت : 2013-14

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY