وہ بوڑھا اک خواب ہے اور اک خواب میں آتا رہتا ہے

ذوالفقار عادل

وہ بوڑھا اک خواب ہے اور اک خواب میں آتا رہتا ہے

ذوالفقار عادل

MORE BYذوالفقار عادل

    وہ بوڑھا اک خواب ہے اور اک خواب میں آتا رہتا ہے

    اس کے سر پر ان دیکھا پنچھی منڈلاتا رہتا ہے

    ناٹک کے کرداروں میں کچھ سچے ہیں کچھ جھوٹے ہیں

    پردے کے پیچھے کوئی ان کو سمجھاتا رہتا ہے

    بستی میں جب چاک گریباں گریہ کرتے پھرتے ہیں

    اس موسم میں ایک رفو گر ہنستا گاتا رہتا ہے

    ہر کردار کے پیچھے پیچھے چل دیتا ہے قصہ گو

    یوں ہی بیٹھے بیٹھے اپنا کام بڑھاتا رہتا ہے

    اس دن بھی جب بستی میں تلواریں کم پڑ جاتی ہیں

    ایک مدبر آہن گر زنجیر بناتا رہتا ہے

    آوازوں کی بھیڑ میں اک خاموش مسافر دھیرے سے

    نامانوس دھنوں میں کوئی ساز بجاتا رہتا ہے

    دیکھنے والی آنکھیں ہیں اور دیکھ نہیں پاتیں کچھ بھی

    اس منظر میں جانے کیا کچھ آتا جاتا رہتا ہے

    اس دریا کی تہہ میں عادلؔ ایک پرانی کشتی ہے

    اک گرداب مسلسل اس کا بوجھ بڑھاتا رہتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY