وہ چاندنی رات اور وہ ملاقات کا عالم

مصحفی غلام ہمدانی

وہ چاندنی رات اور وہ ملاقات کا عالم

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    وہ چاندنی رات اور وہ ملاقات کا عالم

    کیا لطف میں گزرا ہے غرض رات کا عالم

    جاتا ہوں جو مجلس میں شب اس رشک پری کی

    آتا ہے نظر مجھ کو طلسمات کا عالم

    برسوں نہیں کرتا تو کبھو بات کسو سے

    مشتاق ہی رہتا ہے تری بات کا عالم

    کر مجلس خوباں میں ذرا سیر کہ باہم

    ہوتا ہے عجب ان کے اشارات کا عالم

    دل اس کا نہ لوٹے کبھی پھولوں کی صفا پر

    شبنم کو دکھا دوں جو ترے گات کا عالم

    ہم لوگ صفات اس کی بیاں کرتے ہیں ورنہ

    ہے وہم و خرد سے بھی پرے ذات کا عالم

    وہ کالی گھٹا اور وہ بجلی کا چمکنا

    وہ مینہ کی بوچھاڑیں، وہ برسات کا عالم

    دیکھا جو شب ہجر تو رویا میں کہ اس وقت

    یاد آیا شب وصل کے اوقات کا عالم

    ہم مصحفیؔ قانع ہیں بہ خشک و تر گیتی

    ہے اپنے تو نزدیک مساوات کا عالم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY