وہ دور نشاط دیدہ و دل جیسے بس ابھی گزرا ہی تو ہے

مخمور سعیدی

وہ دور نشاط دیدہ و دل جیسے بس ابھی گزرا ہی تو ہے

مخمور سعیدی

MORE BYمخمور سعیدی

    وہ دور نشاط دیدہ و دل جیسے بس ابھی گزرا ہی تو ہے

    سینے کی کسک کس طرح مٹے ہر داغ کہن تازہ ہی تو ہے

    تو ساتھ کہاں لیکن اب تک ہر رہ گزر تنہائی پر

    جو آگے آگے چلتا ہے اے دوست کوئی تجھ سا ہی تو ہے

    اس طائر آوارہ کے لیے یوں جال نہ بن امیدوں کے

    اڑتا ہوا لمحہ جیسے ابھی روکے سے ترے رکتا ہی تو ہے

    معلوم نہیں کس وقت یہ کیا برتاؤ کسی سے کرتی ہے

    دنیا سے کوئی امید نہ رکھ مایوس نہ ہو دنیا ہی تو ہے

    کرنیں نئے دن کے سورج کی پھیلیں گی تو گم ہو جائے گا

    تاریک ہے جس سے دل کا افق گزری شب کا سایا ہی تو ہے

    لمحوں کے ہجوم گریزاں میں اک لمحہ جسے اپنا کہئے

    جاں دے کے بھی ہاتھ آ جائے اگر مہنگا کب ہے سستا ہی تو ہے

    مخمورؔ تعاقب کر دیکھو کچھ دور نہیں ہاتھ آ جائے

    اک گم شدہ خوشبو کا جھونکا آنگن سے ابھی گزرا ہی تو ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY