وہ گل بدن ہے سراپا گلاب جیسا ہے

روپ ساگر

وہ گل بدن ہے سراپا گلاب جیسا ہے

روپ ساگر

MORE BYروپ ساگر

    وہ گل بدن ہے سراپا گلاب جیسا ہے

    جہان حسن میں وہ آفتاب جیسا ہے

    ہزاروں رنگ سمیٹے ہوئے ہے آنکھوں میں

    وہ شاعری کی مکمل کتاب جیسا ہے

    سنوار دیتا ہے وہ ساری مشکلیں میری

    ہر اک سوال ہی اس کا جواب جیسا ہے

    وہ رو بہ رو ہو تو بس دیکھتے رہو اس کو

    کہ اس کو دیکھنا کار ثواب جیسا ہے

    زمانہ کچھ نہیں سمجھے گا بس پئے جاؤ

    کہ زہر غم کا نشہ بھی شراب جیسا ہے

    کسی مقام پے ٹھہرا ہے اور نہ ٹھہرے گا

    کہ دل کا حال بھی خانہ خراب جیسا ہے

    ہر ایک لفظ ہے ساگرؔ کا قیمتی موتی

    وہ رکھ رکھاؤ میں اب بھی نواب جیسا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY